Sunday, February 25

Quran Majeed with translate by Syed Abu Muhammad Naqvi.

Quran Majeed with translate by Syed Abu Muhammad Naqvi.




آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے

قرآن مجید یا قرآن شریف (عربی: القرآن الكريم) دین اسلام کی مقدس و مرکزی کتاب ہے جس کے متعلق اسلام کے پیروکاروں کا اعتقاد ہے کہ وہ کلام الہی ہے[1][2] اور اسی بنا پر یہ انتہائی محترم و قابل عظمت کتاب ہے۔ اسے پیغمبر اسلام محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی کے ذریعے اتارا گیا۔ یہ وحی اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتے حضرت جبرائیل علیہ السلام لاتے تھے [3] جیسے جیسے قرآن مجید کی آیات حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہوتیں آپ صلی علیہ وآلہ وسلم اسے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو سنا اور ان آیات کے مطالب و معانی سمجھا دیتے۔ کچھ صحابہ کرام تو ان آیات کو وہیں یاد کر لیتے اور کچھ لکھ کر محفوظ کر لیتے۔ مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ قرآن ہر قسم کی تحریف سے پاک سے محفوظ ہے[4][5][6]، قرآن میں آج تک کوئی کمی بیشی نہیں ہو سکی اور اسے دنیا کی واحد محفوظ کتاب ہونے کی حیثیت حاصل ہے، جس کا حقیقی مفہوم تبدیل نہیں ہو سکا اور تمام دنیا میں کروڑوں کی تعداد میں چھپنے کے باوجود اس کا متن ایک جیسا ہے اور اس کی تلاوت عبادت ہے۔[7] نیز صحف ابراہیم، زبور[8] اور تورات و انجیل[9][10] کے بعد آسمانی کتابوں میں یہ سب سے آخری کتاب ہے اور سابقہ آسمانی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے اب اس کے بعد کوئی آسمانی کتاب نازل نہیں ہوگی۔ قرآن کی فصاحت و بلاغت کے پیش نظر اسے لغوی و مذہبی لحاظ سے تمام عربی کتابوں میں اعلیٰ ترین مقام دیا گیا ہے۔[11][12][13][14][15][16][17] نیز عربی زبان و ادب اور اس کے نحوی و صرفی قواعد کی وحدت و ارتقا میں بھی قرآن کا خاصا اہم کردار دکھائی دیتا ہے۔ چنانچہ قرآن کے وضع کردہ عربی زبان کے قواعد بلند پایہ عرب محققین اور علمائے لغت مثلاً سیبویہ، ابو الاسود الدؤلی اور خلیل بن احمد فراہیدی وغیرہ کے یہاں بنیادی ماخذ سمجھے گئے ہیں۔

گو کہ نزول قرآن سے قبل عربی زبان کا ادب خاصا وسیع اور اس کا دامن الفاظ و تراکیب اور تشبیہات و استعارات سے لبریز تھا لیکن وہ متحد نہیں تھی۔ قرآن کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ اس نے عربی زبان کو ایک بنیاد پر متحد کیا[18] اور حسن کلام، روانی، فصاحت و بلاغت اور اعجاز و بیان کے ایسے شہ پارے پیش کیے جنہیں دیکھ کر فصحائے عرب ششدر تھے۔[19] نیز قرآن نے عربی زبان کو مٹنے سے بھی بچایا، جیسا کہ بہت سی سامی زبانیں وقت کے گزرنے کے ساتھ ناپید یا زوال پزیر ہو گئیں جبکہ عربی زبان گزرتے وقتوں کے ساتھ مزید مالا مال ہوتی رہی اور قدیم و جدید تمام تقاضوں سے خود کو ہم آہنگ رکھا۔[20][21][22][23]

قرآن میں کل 114 سورتیں ہیں جن میں سے 87 مکہ میں نازل ہوئیں اور وہ مکی سورتیں کہلاتی ہیں اور 27 مدینہ میں نازل ہوئیں اور مدنی سورتیں کہلاتی ہیں ۔[24] مسلمانوں کا اعتقاد ہے کہ قرآن کو اللہ نے جبریل فرشتہ کے ذریعہ پیغمبر محمد پر تقریباً 23 برس کے عرصہ میں اتارا۔ نزول قرآن کا یہ سلسلہ اس وقت شروع ہوا تھا جب پیغمبر محمد چالیس برس کے تھے اور ان کی وفات سنہ 11ھ بمطابق 632ء تک جاری رہا۔ نیز مسلمان یہ بھی عقیدہ رکھتے ہیں کہ وفات نبوی کے بعد صحابہ نے اسے مکمل اہتمام و حفاظت کے ساتھ منتقل کیا اور اس کی آیتیں محکمات کا درجہ رکھتی ہیں،[25][26] نیز قرآن تا قیامت قابل عمل اور ہر دور کے حالات کا حل پیش کرتا ہے۔[27] قرآن کا سب سے پہلا ترجمہ سلمان فارسی نے کیا۔ یہ سورۃ الفاتحہ کا فارسی میں ترجمہ تھا۔ قرآن کو دنیا کی ایسی واحد کتاب کی بھی حیثیت حاصل ہے جو لاکھوں کی تعداد میں لوگوں کو زبانی یاد ہے اور یہ دنیا میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب ہے، جسے مسلمان روز ہر نماز میں بھی پڑھتے ہیں اور انفرادی طور پر تلاوت بھی کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں مسلمان ہر سال رمضان کے مہینہ میں تراویح کی نماز میں کم از کم ایک بار پورا قرآن با جماعت سنتے ہیں۔ قرآن نے مسلمانوں کی عام زندگی، عقائد و نظریات، فلسفہ اسلامی، اسلامی سیاسیات، معاشیات، اخلاقیات اور علوم و فنون کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔

مسلمانوں کے مطابق قرآن پیغمبر محمد کا معجزہ ہے اور اس کی آیتیں تمام انسانوں کے سامنے یہ چیلنج پیش کرتی ہیں کہ کوئی اس کے مثل نہیں بنا سکتا،[31] نیز یہ قرآن پیغمبر محمد کی نبوت کی دلیل[32] اور صحف آدم سے شروع ہونے والے اور صحف ابراہیم، تورات، زبور اور انجیل تک آسمانی پیغام کا یہ سلسلہ قرآن پر ختم ہوا۔[33] قرآن کی تشریحات کو اسلامی اصطلاح میں تفسیر کہا جاتا ہے جو مختلف زبانوں میں کی جاتی رہی ہیں۔ قرآنی تراجم دنیا بھر کی اہم زبانوں میں ہو چکے ہیں۔ جبکہ صرف اردو زبان میں تراجم قرآن کی تعداد تین سو سے زائد ہے۔

Quran Majeed

وجہ تسمیہ اور معنی

قرآن میں لفظ قرآن قریباً 70 دفعہ آیا ہے اور متعدّد معانی میں استعمال ہوا ہے۔ یہ عربی زبان کے فعل قرأ کا مصدر ہے جس کے معنی ہیں ’’اُس نے پڑھا ‘‘ یا ’’اُس نے تلاوت کی‘‘۔سریانی زبان میں اس کے مساوی (ܩܪܝܢܐ) qeryānā کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے ’’صحیفہ پڑھنا‘‘ یا ’’سبق‘‘۔۔[34] اگرچہ کئی مغربی عالم اس لفظ کو سریانی زبان سے ماخوذ سمجھتے ہیں، مگر اکثر مسلمان علما اس کی اصل خود لفظ قرأ کو ہی قرار دیتے ہیں[35] بہرحال محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وقت تک یہ ایک عربی اصطلاح بن چکی تھی[35]۔ لفظ قرآن کا ایک اہم مطلب ’’تلاوت کرنا‘‘ ہے جیسا کہ اس ابتدائی قرآنی آیت میں بیان ہوا ہے: ’’یقیناً اس کا جمع کرنا اور اس کی تلاوت ہماری ذمہ داری ہے‘‘۔[36]

دوسری آیات میں قرآن کا مطلب ’’ایک خاص حصّہ جس کی تلاوت (محمد نے ) کی ‘‘کے بھی ہیں۔ نماز میں تلاوت کے اس مطلب کا کئی مقامات پر ذکر آیا ہے جیسا کہ اس آیت میں:’’اور جب قرآن پڑھا جائے تو اسے غور سے سنو اور خاموش رہو‘‘۔[37] جب دوسرے صحائف جیسا کہ تورات اور انجیل کے ساتھ یہ لفظ استعمال کیا جائے تو اس کا مطلب ’’تدوین شدہ صحیفہ‘‘ بھی ہو سکتا ہے۔

اس اصطلاح سے ملتے جلتے کئی مترادف بھی قرآن میں کئی مقامات پر استعمال ہوئے ہیں۔ ہر مترادف کا اپنا ایک خاص مطلب ہے مگر بعض مخصوص سیاق و سباق میں ان کا استعمال لفظ قرآنکے مساوی ہو جاتا ہے مثلا ًکتاب(بمعنی کتاب)، آیۃ (بمعنی نشان) اور سورۃ (بمعنی صحیفہ)۔ آخری دو مذکورہ اصطلاحات ’’وحی کے مخصوص حصّوں‘‘ کے مطلب میں بھی استعمال ہوتی ہیں۔ بیشتر اوقات جب یہ الفاظ ’’ال‘‘ کے ساتھ استعمال ہوتے ہیں تو ان کا مطلب ’’وحی‘ ‘ کا ہوتا ہے جو وقفہ وقفہ سے نازل کی گئی ہو ۔[38][39] بعض مزید ایسے الفاظ یہ ہیں:ذکر (بمعنی یاد دہانی) اور حکمۃ (بمعنی دانائی)۔

قرآن اپنے آپ کو الفرقان(حق اور باطل کے درمیان میں فرق کرنے والا)، امّ الکتاب، ہدٰی (راہنمائی)، حکمۃ(دانائی)، ذکر (یاد دہانی) اور تنزیل (وحی یا اونچے مقام سے نیچے بھیجی جانے والی چیز) بیان کرتا ہے۔ ایک اور اصطلاح الکتاب بھی ہے، اگرچہ یہ عربی زبان میں دوسرے صحائف مثلاً تورات اور انجیل کے لیے بھی استعمال ہوتی ہے۔ قرآن سے اسم صفت ’’قرآنی‘‘ ہے۔ مصحف کی اصطلاح اکثر مخصوص قرآنی مسوّدات کے لیے استعمال ہوتی ہے مگر اس کے ساتھ ہی یہ اصطلاح قرآن میں گذشتہ کتابوں کے لیے بھی استعمال ہوئی ہے۔

اسلام اور مسلمانوں کے نزدیک قرآن کی اہمیت

مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ قرآن مجید آخری آسمانی کتاب ہے جو پیغمبر محمد پر نازل ہوئی اور اس کا پڑھنا، سننا اور اس پر عمل کرنا موجب تقرب الہی اور باعث اطمینان قلب ہے۔ بیشتر مسلمانوں کا اعتقاد ہے کہ قرآن ان کی تہذیب و تمدن اور معاشرت کی بنیاد ہے اور تمام شعبہ ہائے زندگی میں اس سے رہنمائی حاصل کرنا لازمی ہے۔ ڈاکٹر وصفی عاشور ابو زید لکھتے ہیں:

قرآن مجید اس امت کے لیے لافانی کتاب، ان کا دستور حیات اور رہنما و رہبر ہے۔ نیز قرآن دعوت اسلامی کی بھی لازوال کتاب اور ہر دور میں اس کی رہنما ہے۔ قوم، معاشرہ، خاندان اور فرد ہر ایک کی زندگی میں اس کی خاصی اہمیت ہے۔ قرآن تعمیر انسان اور اس کی شخصیت، ضمیر اور عقل و فکر کی تعمیر سے بحث کرتا اور ایسے قوانین وضع کرتا ہے جن کی مدد سے خاندان کے ڈھانچے کو محفوظ، امن و سکون سے پُر اور محبت و عافیت کے ساتھ رکھا جا سکتا ہے۔ نیز قرآن انسانی معاشرے کی تعمیر بھی ان خطوط پر کرتا ہے جن پر چل کر ایک معاشرہ اپنی مخفی صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکے۔

[40]

مسلمانوں کے نزدیک کوئی مسلمان قرآن سے مستغنی نہیں ہو سکتا، یہی کتاب اس کا سرمایہ زندگی، سرمہ بصیرت اور رہبر کامل ہے۔ مسلمانوں کی زندگی کی ہر شے اس کتاب سے مربوط ہے، اسی سے ان کے عقائد ماخوذ ہیں، یہی ان کی عبادتوں کا تعارف کراتی اور رضائے الہی کے حصول میں مددگار بنتی ہے۔ نیز اخلاق و معاملات میں جن امور کی رہنمائی درکار ہے وہ سب اس میں موجود ہیں۔ جو مسلمان اس کتاب پر عمل نہیں کرتے وہ گمراہ ہیں اور ان کا انجام تاریک ہے۔[41] جیسا کہ حسب ذیل آیتوں اور احادیث میں بیان کیا گیا ہے۔ سورہ اسرا میں ہے: سورہ طہ میں ہے: نیز عبد الرحمن دارمی نے علی بن ابی طالب کی روایت نقل کی ہے، وہ کہتے ہیں کہ:

میں نے رسول اللہ سے سنا: عنقریب کچھ فتنے برپا ہوں گے۔ میں نے دریافت کیا، ان سے نکلنے کی کیا صورت ہوگی؟ کہا: “اللہ کی کتاب، جس میں تمہارے اگلوں کی سرگزشت اور تمہارے پچھلوں کی خبر ہے۔ اس میں تمہارے باہمی اختلاف کا فیصلہ ہے، یہ کتاب قول فیصل ہے ہنسی مذاق نہیں۔ اس کتاب کو جس زور آور نے چھوڑا اللہ نے اس کی کمر توڑ دی، جس نے اسے چھوڑ کر کہیں اور سے ہدایت طلب کی اللہ نے اسے گمراہ کر دیا، یہ اللہ کی مضبوط رسی ہے۔ یہ وہ کتاب ہے جس سے خواہشوں میں کجی نہیں پیدا ہوتی، زبانیں مشتبہ نہیں ہوتیں، علما اس سے سیر نہیں ہوتے یہ کتاب کثرت استعمال سے پرانی نہیں ہوتی اور نہ اس کے عجائب ختم ہوتے ہیں۔

[42]

چنانچہ قرآن میں عقائد کا مفصل تذکرہ، عبادات مثلاً روزہ، زکوۃ، حج وغیرہ کے احکام، نیز خرید و فروخت، نکاح و طلاق، وراثت و تجارت کے احکام بھی درج ہیں۔ اخلاق و آداب کا بھی مفصل ذکر ہے۔[43] متعدد علما و مفسرین نے “احکام قرآن” کے موضوع پر بہت سی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں فقہی احکام سے متعلق آیتوں کو یکجا کیا اور عبادات و معاملات میں ان آیتوں سے مستنبط شدہ احکام کو بھی تفصیل سے بیان کیا ہے تاکہ احکام قرآن سے شناسائی میں سہولت ہو۔ مسلمانوں کا اعتقاد ہے کہ سابقہ آسمانی کتابوں میں امور زندگی کے متعلق جو ہدایات اور رہنمائی موجود تھیں، قرآن ان سب پر مشتمل ہے۔ وہ سورہ مائدہ کی درج ذیل آیت سے استدلال کرتے ہیں: سورہ مائدہ

مفسرین کا کہنا ہے کہ قرآن سابقہ کتابوں زبور، تورات اور انجیل کے تمام مضامین پر مشتمل ہے اور اخلاق و معاملات کے بہت سے امور میں ان کتابوں سے زیادہ رہنمائی فراہم کرتا ہے۔[44] قرآن وہ کتاب ہے جو سابقہ کتابوں کی تمام حق باتوں کا حکم کرتا اور ان پر عمل کرنے پر ابھارتا ہے۔ اس کتاب میں گزشتہ قوموں، امتوں اور انبیا و رسولوں کی حکایتیں بھی بیان کی گئی ہیں۔ تاہم اس میں فروعی احکام مذکور نہیں، محض کلیات کا احاطہ کیا گیا ہے جو یہ ہیں: تحفظ دین، تحفظ ذات، تحفظ عقل، تحفظ نسب اور تحفظ مال۔[45]

علاوہ ازیں مسلمان یہ بھی مانتے ہیں کہ قرآن کی بعض آیتیں اہمیت و فضیلت میں زیادہ ہیں، بعض آیتیں انہیں حسد اور شیطان کے وسوسوں سے محفوظ رکھتی ہیں۔ جو آیتیں فضیلت میں ممتاز ہیں ان میں آیت الکرسی، سورہ بقرہ کی آیت نمبر 255 اور اہل تشیع کے یہاں سورہ بقرہ کی آیت 255، 256 اور 257 قابل ذکر ہیں، ان کا پڑھنا مستحب خیال کیا جاتا ہے۔[46][47][48][49][50][51] علمائے اسلام کا کہنا ہے کہ اللہ کے ناموں اور صفات پر مشتمل ہونے کی وجہ سے اس آیت کی عظمت بڑھ گئی، ان کا پڑھنا شیطان اور اس کے تسلط سے گھر اور انسان کو محفوظ رکھتا ہے۔[52][53] اسی طرح ایک سورہ فلق بھی ہے جسے مسلمان غیر محسوس برائیوں اور آفتوں سے بچنے کے لیے پڑھتے ہیں۔[54] سورہ ناس بھی شیطان کے شر و فتن سے بچنے کے لیے پڑھی جاتی ہے۔[55]

تاریخ

نزول قرآن

علمائے اسلام کا نزول قرآن کی کیفیت میں اختلاف ہے کہ آیا وہ ایک ہی بار میں مکمل نازل ہوا یا بتدریج اترا۔ بعض آیتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن ایک ہی دفعہ میں نازل ہوا جبکہ کچھ آیتیں بتدریج نزول کو بیان کرتی ہیں۔ چنانچہ اس اختلاف کو یوں رفع کیا گیا کہ نزول قرآن کے متعدد مراحل طے کیے گئے جو حسب ذیل ہیں:

  1. پہلے مرحلے میں قرآن لوح محفوظ پر نازل ہوا۔ اس نزول کا مقصد یہ تھا کہ اسے لوح محفوظ میں ثبت اور قرآن کو ناقابل تغیر کر دیا جائے۔[56] اس نزول کی دلیل قرآن سے اخذ کی گئی ہے Ra bracket.png بَلْ هُوَ قُرْآنٌ مَّجِيدٌ Aya-21.png فِي لَوْحٍ مَّحْفُوظٍ Aya-22.pngLa bracket.png[ا]
  2. لوح محفوظ سے آسمان میں موجود ایک مقام بیت العزت میں شب قدر کو نازل ہوا۔ اس کی دلیل قرآن کی یہ آیتیں ہیں Ra bracket.png إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةٍ مُّبَارَكَةٍ إِنَّا كُنَّا مُنذِرِينَ Aya-3.png La bracket.png[ب]، Ra bracket.png إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ Aya-1.png La bracket.png[پ]۔ درج ذیل حدیثیں بھی اس کی دلیل ہیں: عبد اللہ بن عباس سے مروی ہے، فرماتے ہیں کہ “قرآن کو لوح محفوظ سے نکال کر آسمان دنیا کے ایک مقام بیت العزت پر اتارا گیا، جہاں سے جبریل پیغمبر پر لے جایا کرتے تھے”۔[57] ابو شامہ مقدسی نے اپنی کتاب المرشد والوجيز عن هذا النزول میں لکھا ہے: “علما کی ایک جماعت کا کہنا ہے کہ قرآن لوح محفوظ سے بیت العزت میں ایک ہی رات کو مکمل نازل ہوا اور جبریل نے اسے یاد کر لیا۔ کلام الہی کی ہیبت سے آسمان والے غش کھا گئے، جب جبریل کا ان پر سے گزر ہوا تو انہیں ہوش آیا اور کہنے لگے: Ra bracket.png وَلَا تَنفَعُ الشَّفَاعَةُ عِندَهُ إِلَّا لِمَنْ أَذِنَ لَهُ حَتَّى إِذَا فُزِّعَ عَن قُلُوبِهِمْ قَالُوا مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ قَالُوا الْحَقَّ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ Aya-23.png La bracket.png[ت]۔ بعد ازاں جبرئیل نے کاتب فرشتوں کو اس کا املا کرایا، چنانچہ قرآن میں مذکور ہے: Ra bracket.png بِأَيْدِي سَفَرَةٍ Aya-15.png La bracket.png[ٹ][58]
  3. بیت العزت سے جبریل نے بتدریج قلب پیغمبر پر اتارا، نزول قرآن کا یہ مرحلہ تیئیس برس کے عرصہ پر محیط ہے۔ قرآن میں ہے: Ra bracket.png قَالَ كَلَّا فَاذْهَبَا بِآيَاتِنَا إِنَّا مَعَكُم مُّسْتَمِعُونَ Aya-15.png La bracket.png[ث]۔ تمام آسمانی کتابوں میں قرآن واحد کتاب ہے جو بتدریج نازل ہوئی، چنانچہ قرآن میں مذکور ہے: Ra bracket.png وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْلَا نُزِّلَ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ جُمْلَةً وَاحِدَةً كَذَلِكَ لِنُثَبِّتَ بِهِ فُؤَادَكَ وَرَتَّلْنَاهُ تَرْتِيلًا Aya-32.png La bracket.png[ج]۔ علما نے قرآن کے بتدریج نزول کی درج ذیل حکمتیں بیان کی ہیں:
    1. کفار کی مخالفت، اذیت رسانی اور سخت کشیدہ حالات میں پیغمبر محمد کی دل بستگی، سورہ فرقان میں ہے: Ra bracket.png وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْلَا نُزِّلَ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ جُمْلَةً وَاحِدَةً كَذَلِكَ لِنُثَبِّتَ بِهِ فُؤَادَكَ وَرَتَّلْنَاهُ تَرْتِيلًا Aya-32.png La bracket.png[چ]۔ آیت “ورتلناہ ترتيلاً” میں اس بات کی جانب اشارہ ہے کہ قرآن کے بتدریج نزول کا مقصد اس کے یاد رکھنے اور سمجھنے میں سہولت بہم پہنچانا ہے۔
    2. مشرکین کے پیش کردہ شبہات کا رد اور ان کے دلائل کا یکے بعد دیگرے اِبطال: Ra bracket.png وَلَا يَأْتُونَكَ بِمَثَلٍ إِلَّا جِئْنَاكَ بِالْحَقِّ وَأَحْسَنَ تَفْسِيرًا Aya-33.png La bracket.png[ح]۔
    3. پیغمبر محمد اور ان کے ساتھیوں کے لیے قرآن کا یاد رکھنا اور اسے سمجھنا آسان ہو۔
    4. احکام قرآن کے نفاذ میں آسانی فراہم کرنا۔ انسان کے لیے یہ آسان نہیں ہوتا کہ جن رسوم و رواج اور عادتوں میں وہ برسوں اور صدیوں سے جکڑا ہوا ہے انہیں دفعتاً چھوڑ دے، مثلاً شراب پینا۔
    5. حسب ضرورت احکام کا نزول، یعنی بسا اوقات صحابہ کسی پیش آمدہ صورت حال پر حکم الہی جاننا چاہتے تو اس وقت متعلقہ آیت نازل ہوتی۔

بتدریج نزول قرآن کی مقدار کا تذکرہ احادیث میں ملتا ہے کہ جب جتنی ضرورت ہوتی اتنا نازل ہوتا۔ نیز تاریخ قرآن کو دو ادوار میں بھی تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ پہلا دور عہد نبوی کا جس میں قرآن کا وحی کے ذریعہ نزول ہوا اور دوسرا دور خلفائے راشدین کا جس میں قرآن کو ایک مصحف میں یکجا کرکے محفوظ کر دیا گیا۔

عہد نبوی

اسلامی روایات کے مطابق محمّد پر پہلی وحی غار حرا میں اُس وقت نازل ہوئی جب آپ تنہائی میں عبادات کے لیے وہاں گئے ہوئے تھے۔ اس کے بعد یہ سلسلہ وحی 23 برس کے عرصہ تک جاری رہا۔ احادیث اور اسلامی تاریخ کے مطابق ہجرت مدینہ کے بعد جب محمد نے وہاں ایک آزاد اسلامی معاشرہ قائم کر لیا تو آپ نے اپنے صحابہ کو قرآن کی تلاوت اور اس کے روزمرّہ نازل ہونے والے احکام کو یاد کرنے اور دوسروں کو سکھانے کا حکم دیا۔ روایات میں یہ بھی ذکر موجود ہے کہ جنگ بدر کے بعدجب قریش کے کئی لوگ مسلمانوں کے ہاتھ قیدی بن گئے تو اُن میں سے کئی نے مسلمانوں کو لکھنا پڑھنا سکھانے کے بدلے اپنی آزادی حاصل کی۔ اسی طرح آہستہ آہستہ کئی مسلمان خواندہ ہونے لگے۔ قرآن کو پتھروں، ہڈیوں اور کھجور کے پتّوں پر لکھا جانے لگا۔ اکثر سورتیں ابتدائی مسلمانوں کے زیراستعمال تھیں کیونکہ ان کا ذکر سنّی اور شیعہ دونوں روایات میں ملتا ہے۔ جیسا کہ محمد کا قرآن کو تبلیغ کے لیے استعمال کرنا، دعا ؤں میں اس کا پڑھا جانا اور انداز تلاوت کے بیان میں ان کا ذکر احادیث میں ملتا ہے۔ تاہم، 632 عیسوی میں محمد کی وفات کے وقت ابھی قرآن ایک کتاب کی شکل میں موجود نہ تھا۔ تمام علما اس بات پر متّفق ہیں کہ محمد خود وحی کی کتابت نہیں کرتے تھے۔

صحیح بخاری میں محمد کی وحی کی کیفیات کا حال یوں درج ہے کہ ’’بسا اوقات (وحی) گھنٹی کے بجنے کی طرح نازل ہوتی ہے‘‘ اور عائشہ سے روایت ہے کہ، ’’میں نے ایک بہت سرد دن میں حضور پر وحی نازل ہوتے ہوئے دیکھا اور (جب وحی ختم ہوئی تو) آپ کے ماتھے سے پسینے کے قطرے ٹپک رہے تھے۔‘‘قرآن کے بیان کے مطابق محمد پر پہلی وحی ایک کشف کے ساتھ نازل ہوئی۔ وحی نازل کرنے والی ہستی کا بارے میں یہ بیان کیا گیا ہے’’مضبوط طاقتوں والا‘‘، وہ جو ’’بلند ترین اُفق پر تھا۔ پھر وہ نزدیک ہوا۔ پھر وہ نیچے اُتر آیا۔ پس وہ دو قوسوں کے وتر کی طرح ہو گیایا اُس سے بھی قریب تر‘‘۔ ویلچ (Welch) جو ایک اسلامی سکالر ہیں، Encyclopaedia of Islam میں لکھتے ہیں کی وہ یہ یقین رکھتے ہیں کہ وحی کے نزول کے وقت محمد کی کیفیات کی جو ظاہری شکل بیان کی گئی ہے وہ درست ہو سکتی ہے کیونکہ وہ وحی کے نزول کے بعد کافی پریشان ہو گئے تھے۔ ویلچ کے مطابق، وحی کے موقع پر محمد کو ہلا دینے والے جھٹکے اُن کے گرد لوگوں کے لیے اس بات کا ثبوت واقع ہوئے ہوں گے کہ محمد کی وحی کا مبدا واقعی مافوق الفطرت ہے۔ تاہم، محمد کے ناقدین ان مشاہدات کی بنا پر اُن کو مجنون، کاہن اور جادوگر قرار دیتے تھے کیونکہ قدیم عرب میں کئی ایسے لوگ اس طرح کے تجربات کے مدّعی تھے۔ ویلچ مزید یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ بات غیر واضح ہے کہ اس طرح کے مشاہدات محمد کے ابتدائی دعوٰی نبوت سے پہلے کے ہیں یا بعد کے ۔

قرآن محمد کو اُمّی قرار دیتا ہے جس کا عام طور پر ’’ان پڑھ‘‘ مطلب لیا جاتا ہے مگر اس کا مطلب دراصل کچھ پیچیدہ ہے۔ قرون وسطیٰ کے مفسّرین جیسا کہ طبری کے مطابق اس اصطلاح کے دو مطالب ہیں:پہلا تو یہ کہ عمومی طور پر لکھنے اور پڑھنے کا قابل نہ ہونا جبکہ دوسرا یہ کہ گذشتہ کتب اور صحائف سے لاعلم ہونا (اگرچہ اکثر مفسّرین پہلے مطلب کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں)۔ اس کے علاوہ، محمد کا ناخواندہ ہونا آپ کی نبوّت کی صداقت کی ایک دلیل سمجھا جاتا تھا۔ جیسا کہ امام فخر الدّین رازی کہتے ہیں کہ، اگر محمد لکھنے پڑھنے پر پوری مہارت رکھتے ہوتے تو اُن پر یہ شبہ کیا جا سکتا تھا کہ اُنہوں نے اپنے آبا و اجداد کی کتب پڑھی ہوں گی۔ کچھ عالم جیسا کہ واٹ دوسرے معنی کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں۔

خلفائے راشدین کا عہد

خلفائے راشدین کے عہد میں جمع قرآن کے متعلق دو نقطہ نظر ہیں، پہلا نقطہ نظر اہل سنت کا ہے اور دوسرا امامیہ اہل تشیع کا۔ اہل سنت کا متفقہ نقطہ نظر یہ ہے کہ ابو بکر صدیق کے عہد میں قرآن کو یکجا کرکے ایک مصحف میں محفوظ کیا گیا اور عہد عثمان میں اسی مصحف کو باضابطہ نسخہ قرار دے کر بقیہ نسخوں کو نذر آتش کر دیا گیا۔[59] جبکہ اہل تشیع کا نقطہ نظر یہ ہے کہ علی ابن ابی طالب نے وفات نبوی کے بعد مکمل قرآن کو ایک مصحف میں جمع کیا تھا[60] اور ان کی ترتیب عثمانی مصحف کی ترتیب سے مختلف تھی لیکن بایں ہمہ انہوں نے اس مصحف پر اعتراض نہیں کیا اور اپنے مرتب کردہ مصحف کو اپنے پاس محفوظ رکھا۔ اہل تشیع کا کہنا ہے کہ علی بن ابی طالب کے مصحف کے چند امتیازات تھے، مثلاً وہ ترتیب نزولی پر تھا یعنی منسوخ آیتوں کو ناسخ آیتوں سے پہلے اور مکی سورتوں کو مدنی سورتوں سے پہلے درج کیا گیا تھا۔[61] اس کے حاشیے پر آیت کی مناسبت سے اہم تشریحات وغیرہ لکھی گئی تھیں[62] اور تفصیل کے ساتھ آیتوں کا شان نزول اور مقام نزول بھی مذکور تھا۔ چنانچہ اسی ضمن میں جعفر صادق کا قول ہے: “فرمان رسول ہے: اگر قرآن کو لوگ اس طرح پڑھیں جس طرح نازل ہوا ہے تو کبھی اختلاف نہ ہو”۔[63]

عہد صدیقی میں جمع قرآن کی روایتوں سے پتا چلتا ہے کہ جمع قرآن کی کارروائی جنگ یمامہ کے بعد شروع ہوئی۔ جنگ یمامہ میں صحابہ کی بہت بڑی تعداد شہید ہوئی تو عمر بن خطاب ابو بکر صدیق کی خدمت میں پہنچے اور عرض کیا کہ حفاظ صحابہ کی وفات سے قبل قرآن کو یکجا کیا جانا چاہیے۔ چنانچہ ابو بکر صدیق نے زید بن ثابت کو اس کی ذمہ داری دی کیونکہ وہ اس کے اہل بھی تھے اور عہد نبوی میں کاتب قرآن اور حافظ قرآن بھی تھے۔ علاوہ ازیں زید بن ثابت کی فہم و فراست، ذہانت و فطانت اور سچائی و امانت داری مشہور تھی۔ زید بن ثابت نے کاغذ کے ٹکڑوں، ہڈیوں اور چمڑوں کو اکٹھا کرکے اور حفاظ سے مل کر جمع قرآن کا آغاز کیا، اس پورے عمل میں ابو بکر، عمر اور بڑے صحابہ ان کی معاونت اور نگرانی کر رہے تھے۔ قرآن کو ہر غلطی سے محفوظ رکھنے کے لیے ابو بکر و عمر نے یہ طریقہ کار وضع کیا کہ صحابہ محض اپنے حافظہ اور سننے پر اکتفا نہ کریں بلکہ قرآن کا تتبع کریں، نیز ہر آیت کو دو ماخذ سے لیا جائے، پہلا عہد نبوی میں لکھا ہوا اور دوسرا سینوں میں محفوظ۔ چنانچہ کسی آیت کو اس وقت تک قبول نہیں کیا جاتا جب تک اس پر دو عادل گواہ اس کی گواہی نہ دے دیں کہ یہ آیت عہد نبوی میں لکھی گئی تھی۔[64] جمع قرآن کی کارروائی جاری رہی اور سورہ توبہ کی آخری آیتوں پر اختتام کو پہنچی جو ابو خزیمہ انصاری کے پاس ملیں۔ مکمل ہو جانے کے بعد یہ نسخہ ابو بکر صدیق کے پاس رہا، پھر عمر بن خطاب کے پاس اور بعد ازاں ان کی بیٹی حفصہ بنت عمر کے پاس محفوظ رہا۔[65] تمام علما کا اس پر اتفاق ہے کہ عہد صدیقی میں جمع قرآن سے قبل صحابہ کے پاس اپنے ذاتی مصحف موجود تھے جن میں انہوں نے قرآن یا اس کا کچھ حصہ اکٹھا کر رکھا تھا لیکن یہ انفرادی کاوشیں تھیں اور انہیں یکجا کرنے میں تلاش، تواتر اور اجماع صحابہ کا اس درجہ لحاظ نہیں رکھا گیا تھا جیسا عہد صدیقی میں ملحوظ رہا۔

عمر بن خطاب کی شہادت کے بعد عثمان بن عفان خلیفہ بنے اور سنہ 650ء تک اسلام سرزمین شام، مصر، عراق و ایران اور شمالی افریقا کے کچھ خطوں تک جا پہنچا۔ اہل سنت و الجماعت کے مصادر میں لکھا ہے کہ عثمان بن عفان آرمینیا اور آذربائیجان پر لشکر کشی کی تیاری کر رہے تھے کہ اسی اثنا میں حذیفہ بن یمان ان کے پاس پہنچے اور یہ عرض گزاری: “امیر المومنین! اس امت کو سنبھا لیے، قبل اس کے کہ ان میں بھی کتاب اللہ کے سلسلہ میں ایسا ہی اختلاف رونما ہو جیسا یہود و نصاریٰ کے یہاں ہوا”۔ حذیفہ بن یمان نے بتایا کہ تلاوت قرآن میں عراقیوں اور شامیوں میں کیسا اختلاف برپا ہے اور ہر ایک اپنے طرز قرات کو درست سمجھ رہا ہے۔[66] یہ سن کر عثمان بن عفان نے فوراً حفصہ بن عمر کے پاس قاصد بھیجا اور ان سے عہد ابو بکر کا مصحف طلب کیا۔ پھر زید بن ثابت، عبد اللہ ابن زبیر، سعید بن العاص اور عبد الرحمن بن حارث بن ہشام کو حکم دیا کہ وہ اس کی متعدد نقلیں تیار کریں۔ روایت میں لکھا ہے کہ عثمان نے ان سے کہا: “اگر کسی جگہ تم میں اختلاف ہو جائے تو اسے قریش کے لہجہ میں لکھنا، کیونکہ قرآن انہی کے لہجہ ميں نازل ہوا ہے”۔ روایت میں یہ بھی ہے کہ جب ان حضرات نے نقلیں تیار کر لیں تو عثمان بن عفان نے اصل مصحف حفصہ کو لوٹا دیا اور اس کی نقلیں سارے عالم اسلام میں بھیج دیں اور حکم دیا کہ اس کے سوا بقیہ تمام نسخے نذر آتش کر دیے جائیں۔[67][68] چنانچہ اس کے بعد تمام نسخے ختم ہو گئے اور یہی نسخہ باقی رہا جو مصحف عثمانی کہلاتا ہے اور اب تک دنیا بھر میں یہی رائج چلا آرہا ہے۔

اہل تشیع کا نقطہ نظر یہ ہے کہ پیغمبر محمد اپنی زندگی میں حفظ قرآن کا خاصا اہتمام کرتے تھے اور سب سے پہلے انہوں نے جمع قرآن کا حکم دیا تھا۔ چنانچہ پیغمبر کی نگرانی ہی میں تمام آیتوں اور سورتوں کو مرتب کیا گیا۔[69] اہل تشیع کے بڑے علما مثلاً سید ابو القاسم خوئی وغیرہ نے اہل سنت کی کتابوں میں مذکور روایتوں (جن میں سر فہرست صحیح بخاری کی روایت ہے) کا دقت نظر سے جائزہ لے کر ان کے تعارض اور اختلاف کو واضح کیا اور ساتھ ہی اہل سنت کی کتابوں میں درج ان روایتوں کو بھی پیش کیا جن سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کو عہد نبوی میں جمع کر لیا گیا تھا۔ مثلاً طبرانی اور ابن عساکر شعبی سے نقل کرتے ہیں، انہوں نے کہا: “چھ انصاری صحابہ نے عہد نبوی میں قرآن کو یکجا کر لیا تھا، ابی بن کعب، زید بن ثابت، معاذ بن جبل، ابو الدردا، سعد بن عبید اور ابو زید”۔[70] اس روایت کو پیش کرنے کے بعد ابو القاسم خوئی نے لکھا ہے کہ ان روایتوں میں لفظ “جمع” کے معنیٰ مکمل قرآن کو محفوظ کر لینے کے ہیں اور اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ان چند افراد نے مختلف جگہوں سے قرآن کو اکٹھا کرکے ایک مصحف میں محفوظ کر لیا تھا۔[71] عہد عثمانی میں نقل مصحف کی کارروائی کے متعلق خوئی کہتے ہیں کہ اس جمع سے مراد تمام مسلمانوں کو ایک مصحف پر متحد کرنا تھا۔ چنانچہ انہوں نے اس کے سوا تمام مصاحف کو جلانے کا حکم جاری کیا تھا اور مسلمانوں کو اختلاف قرات سے حکماً منع کیا۔[72]

قرآن کے ابواب اور تقسیم

قرآن ایک بڑی کتاب ہے۔ اس کی تقسیم حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی زندگی میں فرما چکے تھے اور یہ رہنمائی کر چکے تھے کہ کس آیت کو کس سورت میں کہاں رکھنا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زندگی ہی میں قرآن کے بے شمار حافظ تھے اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم شعبان اور رمضان کے مہینوں میں قرآن کئی دفعہ ختم کرتے تھے جو ظاہر ہے کہ کسی ترتیب کے بغیر ممکن نہیں۔ قرآن کا اعجاز یہ ہے کہ آج تک اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکی۔ پہلی صدی ہجری کے لکھے ہوئے قرآن جو ترکی کے عجائب گھر توپ کاپی میں ہیں یا ایران کے شہر مشھد میں امام علی رضا علیہ السلام کے روضہ کے عجائب گھر میں ہیں، ان میں بعینہ یہی قرآن خطِ کوفی میں دیکھا جا سکتا ہے جو آج جدید طباعت کے بعد ہمارے سامنے ہے۔ اسے سات منزلوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اس کی ایک اور تقسیم سیپاروں کے حساب سے ہے۔ سیپارہ کا لفظی مطلب تیس ٹکروں کا ہے یعنی اس میں تیس سیپارے ہیں۔ ایک اور تقسیم سورتوں کی ہے۔ قرآن میں 114 سورتیں ہیں جن میں سے کچھ بڑی اور کچھ چھوٹی ہیں۔ سب سے بڑی سورت سورۃ البقرہ ہے۔ سورتوں کے اندر مضمون کو آیات کی صورت میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ قرآن میں چھ ہزار چھ سو چھیاسٹھ آیات ہیں۔ نیچے اس تقسیم کو پیش کیا گیا ہے۔

629 Downloads

If you are facing any type of problem please comment us.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.